Monday, 21 February 2022

بڑی پاگل سی لڑکی تھی بہت ہی شوخ چنچل سی

 وہ اک چنچل سی لڑکی تھی


وہ اک چنچل سی لڑکی تھی

یہیں اک گھر میں رہتی تھی

میں اکثر شام کو اس رہگزر سے جب نکلتا تھا

وہ اس کے قہقہے اور

بے تحاشہ بولتے جانا

کبھی پُر شور جھرنوں سا

کبھی اک گیت کے جیسا

مدھر لہروں پہ گونجے

جلترنگ سنگیت کے جیسا

مِرے کانوں میں اس کا دلنشین لہجہ کھنکتا تھا

وہ میرے ذہنِ خوابیدہ کو اکثر گدگداتا تھا

میں اس کو سوچتا اور بےارادہ مسکراتا تھا

بڑی پاگل سی لڑکی تھی

بہت ہی شوخ چنچل سی

نہ جانے کیوں مجھے محسوس ہوتا ہے

ہزاروں لاڈ سے پالی ہوئی وہ موہنی مورت

ادائیں اس کی جتنی شوخ، اتنی کامنی صورت

مگر یہ بھی تو ممکن ہے

بہت ہی نک چڑھی اکھڑ سی ہو شاید

سلونی روپ رنگت کی

کبھی تو ایک دم الجھی

کبھی مغرور ضدی سی

کبھی ازاد پنچھی سی

کبھی سلجھی ہوئی

حساس بادل سی

اسے سننے کی خاطر

میں وہاں آہستہ چلتا تھا

بہت محظوظ ہوتا تھا

مگر ہفتہ ہوا اب بھی

گلی میں روز آتا ہوں

ابھی بھی راستہ چلتے ہوئے

میں رک تو جاتا ہوں

گلی ویران رہتی ہے

فضا خاموش رہتی ہے

اداسی رقص کرتی ہے

میں اکثر سوچتا بھی ہوں

اداسی نے اسے کیوں گھیر رکھا ہے

وہ اس کے شوخ جملے خوشنما الفاظ

سارے اجنبی کیون ہو گئے لب سے

بہت سوچا بہت سوچا

پھر اک دن پوچھ ہی ڈالا

ایک پاگل سی لڑکی تھی

یہین اک گھر میں رہتی تھی

بہت ہی شور کرتی تھی

بڑی الھڑ سی لڑکی تھی

بتاؤ اب کہاں ہے وہ

کسی نے مجھ کو دکھلا یا

کسی نے ہنس کے بتلایا

وہ دیکھو گھر وہ اس کا ہے

اسے پردیس جانا ہے

پرایا گھر بسانا ہے

بِدائی کا سمے اس موہنی کی پاس آیا ہے

تو اب سب لاڈ نخرے ضد ہنسی اور منچلی باتیں

جو سکھیاں تھیں پرائی ہیں

وہ بیٹی تھی بہو بنا ہے اس کو اب

پرانی عادتیں اپنی اسے سب بھول جانا ہے

یہیں پر چھوڑ جانا ہے

سو اب خاموش رہتی ہے

فقط اب مسکراتی ہے

جو ایک چنچل سی لڑکی تھی

بہت خاموش رہتی ہے

بہت خاموش رہتی ہے


اسریٰ رضوی

No comments:

Post a Comment