Monday, 12 October 2020

ہم نے خود اپنی رہنمائی کی

 ہم نے خود اپنی رہنمائی کی 

اور شہرت ہوئی خدائی کی 

میں نے دنیا سے مجھ سے دنیا نے 

سیکڑوں بار بے وفائی کی  

ٹوٹ کر ہم ملے ہیں پہلی بار 

یہ شروعات ہے جدائی کی 

سوئے رہتے ہیں اوڑھ کر خود کو 

اب ضرورت نہیں رضائی کی 

منزلیں چومتی ہیں میرے قدم 

داد دیجے شکستہ پائی کی 

زندگی جیسے تیسے کاٹنی ہے 

کیا بھلائی کی کیا برائی کی 

عشق کے کاروبار میں ہم نے 

جان دے کر بڑی کمائی کی 

اب کسی کی زباں نہیں کھلتی 

رسم جاری ہے منہ بھرائی کی 


راحت اندوری

No comments:

Post a Comment