ہم نے خود اپنی رہنمائی کی
اور شہرت ہوئی خدائی کی
میں نے دنیا سے مجھ سے دنیا نے
سیکڑوں بار بے وفائی کی
ٹوٹ کر ہم ملے ہیں پہلی بار
یہ شروعات ہے جدائی کی
سوئے رہتے ہیں اوڑھ کر خود کو
اب ضرورت نہیں رضائی کی
منزلیں چومتی ہیں میرے قدم
داد دیجے شکستہ پائی کی
زندگی جیسے تیسے کاٹنی ہے
کیا بھلائی کی کیا برائی کی
عشق کے کاروبار میں ہم نے
جان دے کر بڑی کمائی کی
اب کسی کی زباں نہیں کھلتی
رسم جاری ہے منہ بھرائی کی
راحت اندوری
No comments:
Post a Comment