بنے تھے کب کہاں کس کا نشانہ، یاد رکھتے ہیں
کہ ہم ہر زخم، اور اس کا زمانہ یاد رکھتے ہیں
خوشی تو بھول جاتی ہے مِرے گھر کا پتا اکثر
مگر غم ہیں جو میرا ہر ٹھکانا یاد رکھتے ہیں
ہماری پیٹھ پیچھے سازشیں چلتی ہی رہتی ہیں
ہمارے دوست ہم کو غائبانہ یاد رکھتے ہیں
ہیں اک وہ جو بھلا بیٹھے ہیں ہم کو یاد کرنا بھی
اور اک ہم ہیں جو ان کا بھول جانا یاد رکھتے ہیں
کہیں جائیں مگر پھر لوٹ ہی آتے ہیں اس دل میں
پرندے غم کے اپنا آشیانہ یاد رکھتے ہیں
بہانہ اک نیا وہ لے ہی آتے ہیں، نہ آنے کا
انہیں معلوم ہے، ہم ہر بہانہ یاد رکھتے ہیں
عجب سی بے حسی کی کیفیت قدموں پہ طاری ہے
نہ آنا یاد رکھتے ہیں، نہ جانا یاد رکھتے ہیں
راجیش ریڈی
No comments:
Post a Comment