Monday, 12 October 2020

آتش تھے لب لبوں پہ ترانے عجیب تھے

 آتش تھے لب، لبوں پہ ترانے عجیب تھے

وہ دل کی وحشتوں کے زمانے عجیب تھے

ترکِ تعلقات کا تھا ان کو اختیار

پر جو بنا رہے تھے بہانے، عجیب تھے

ناممکنات گویا وہاں پر تھے ممکنات

دل تھا تو دل کے آئینہ خانے عجیب تھے

وہ جاگتی شبیں کہ بہت مہربان تھیں

ان سر پھری رُتوں کے فسانے عجیب تھے

فرقت کی پہلی رات تھی دل تھا مرا اداس

کچھ گیت گنگنائے ہوا نے عجیب تھے

دریا کی موج موج روانی میں کھو گئے

جو لوگ آئے ہم کو بچانے، عجیب تھے

ہر درد رُت میں اور طرح جاگتے تھے وہ

چوٹیں تھیں یا کہ زخم پرانے، عجیب تھے

چہرے سے جان لیتے تھے عظمی وہ دل کا روگ

اس شہر خوش نظر کے سیانے عجیب تھے


اسلام عظمی

No comments:

Post a Comment