Monday, 12 October 2020

اپنا جیسا بھی حال رکھا ہے

 اپنا جیسا بھی حال رکھا ہے

تیرے غم کو نہال رکھا ہے

شاعری کیا ہے ہم نے جینے کا

ایک رستہ نکال رکھا ہے

ہم نے گھر کی سلامتی کے لیے

خود کو گھر سے نکال رکھا ہے

میرے اندر جو سرپھرا ہے اسے

میں نے زنداں میں ڈال رکھا ہے

ایک چہرہ ہے ہم نے جس کے لیے

آئینوں کا خیال رکھا ہے

اس برس کا بھی نام ہم نے تو

تیری یادوں کا سال رکھا ہے

گرتے گرتے بھی ہم نے ہاتھوں پر

آسماں کو سنبھال رکھا ہے

کیا خبر شیشہ گر نے کیوں اظہر

میرے شیشے میں بال رکھا ہے


اظہر ادیب

No comments:

Post a Comment