جیتے جی میرے ہر اک مجھ پہ ہی تنقید کرے
اور مر جاؤں تو دنیا مِری تقلید کرے
میں تو کہتا ہوں کہ تم ابر کرم ہو لیکن
کاش صحرا مِرے الفاظ کی تائید کرے
جب ہر اک بات نہاں تشنۂ تکمیل رہے
پھر کرے کوئی تو کیا جرأتِ تمہید کرے
پہلے ہر شخص گریبان میں اپنے جھانکے
پھر بصد شوق کسی اور پہ تنقید کرے
میں سمجھتا ہوں کہ مجھ سا کوئی مغموم نہیں
حال ہر شخص کا لیکن مِری تردید کرے
میں ہی اب زہر پئے لیتا ہوں سچ کی خاطر
کوئی تو سنتِ سقراط کی تجدید کرے
وہ مِری جرأت پرواز کو کیا سمجھے گا
جو فضاؤں کو محیط مہ و خورشید کرے
مرتضیٰ برلاس
No comments:
Post a Comment