Sunday, 11 October 2020

اس آئینے میں دیکھنا حیرت بھی آئے گی

 اس آئینے میں دیکھنا حیرت بھی آئے گی

اک روز مجھ پہ اس کی طبیعت بھی آئے گی

قدغن لگا نہ اشکوں پہ یادوں کے شہر میں

ہو گا اگر تماشا، تو خلقت بھی آئے گی

میں آئینہ بنوں گا تو پتھر اٹھائے گا

اک دن کھلی سڑک پہ یہ نوبت بھی آئے گی

موسم اگر ہے سرد تو پھر آگ تاپ لے

چمکے گی آنکھ خوں میں حرارت بھی آئے گی

کچھ دیر اور شاخ پہ رہنے دے صبر کر

پکنے دے پھل کو کھانے میں لذت بھی آئے گی

آنکھیں ہیں تیرے پاس تو پھر سطح آب پر

گہرائی سے ابھر کے عبارت بھی آئے گی

نکلیں چراغ ہاتھ میں لے کر گھروں سے لوگ

سورج کی رہ میں منزل ظلمت بھی آئے گی

یہ جانتا تو کاٹتا ساجد نہ سائے کو

تلوار پر لہو کی تمازت بھی آئے گی


اقبال ساجد

No comments:

Post a Comment