اگر ایسا تھا بھی تو ایسے بتانا نہیں چاہیے
تعلق کو ایسا کوئی بھی تماشا نہیں چاہیے
مِرا دل یہ کہتا ہے وہ ان دنوں کچھ پریشان ہے
مگر یہ بھی طے ہے اسے میرا شانہ نہیں چاہیے
سنو یہ جو مرجھائے پتے ہیں نا پیک کر دو سبھی
یہ گیندے، گلاب اور چنبیلی کا گجرا نہیں چاہیے
نہیں شاہزادے! حقیقت کی دنیا بڑی تلخ ہے
تجھے میرے خوابوں سے باہر نکلنا نہیں چاہیے
یہ موسم درختوں سے پتوں کے جھڑنے کا موسم نہیں
ہمیں باغ میں اب زیادہ ٹھہرنا نہیں چاہیے
فریحہ نقوی
No comments:
Post a Comment