Sunday, 11 October 2020

ندی نے دھوپ سے کیا کہہ دیا روانی میں

 ندی نے دھوپ سے کیا کہہ دیا روانی میں 

اجالے پاؤں پٹکنے لگے ہیں پانی میں 

یہ کوئی اور ہی کردار ہے تمہاری طرح 

تمہارا ذکر نہیں ہے مِری کہانی میں 

اب اتنی ساری شبوں کا حساب کون رکھے 

بڑے ثواب کمائے گئے جوانی میں

چمکتا رہتا ہے سورج مکھی میں کوئی اور 

مہک رہا ہے کوئی اور رات رانی میں 

یہ موج موج نئی ہلچلیں سی کیسی ہیں 

یہ کس نے پاؤں اتارے اداس پانی میں 

میں سوچتا ہوں کوئی اور کاروبار کروں 

کتاب کون خریدے گا اس گرانی میں


راحت اندوری

No comments:

Post a Comment