حاصل کرو مِرے لیے نفرت کرائے پر
لے آؤ سارے شہر کی خلقت کرائے پر
جسموں کی منڈیوں میں سبھی کچھ ملے گا دوست
تنہائی، قرب، لمس و حرارت کرائے پر
کچھ برف برف لوگ پگھلنے کے واسطے
سورج سے چاہتے ہیں تمازت کرائے پر
بھر جائے گی زمین کی صورت فضا بھی کل
اُٹھ جائے گی فضا کی بھی وسعت کرائے پر
جائز ہے کاروبار کی خاطر یہاں پہ سب
چندہ کفن کے واسطے، میت کرائے پر
اقبال ساجد
No comments:
Post a Comment