Thursday, 11 March 2021

یہ جو ماتھوں پہ ہیں شکن والے

 یہ جو ماتھوں پہ ہیں شکن والے

پہلے یہ بھی تھے حسنِ ظن والے

شب بہشتوں میں مچ گیا کہرام

چھڑ گئے تذکرے وطن والے

دنیا دنیا پکارنے لگے تھے

مل کے سارے ہی دِین و دھن والے

ہے مساوات موت سے بد تر

چُپ چپیتے ہیں فکر و فن والے

ہم فرشتوں سے لڑ پڑے ہوتے

لطف لیتے گنوار پن والے

خُلد کے پھل بھی لاجواب مگر

پر کہاں ذائقے وہ تن والے

جنتوں میں اداس پھرتے ہیں

ہائے ہم لوگ تھے بدن والے


احمد عطااللہ

No comments:

Post a Comment