بڑا غرور ہے پَل بھر کی نیک نامی کا
رواج عام ہے اس دور میں غلامی کا
امیرِ شہر نے دستار چھین لی اس کی
صِلہ عجیب دیا روز کی سلامی کا
لبِ فرات رہے پیاسے وارثِ زمزم
شکار اکیلا نہیں میں ہی تشنہ کامی کا
بصارت ایسی بصیرت نواز دے اللہ
ہمیں سُجھائی دے نکتہ ہماری خامی کا
کبھی تو آئینہ چہرے کے رو برو آئے
کبھی تو لمحہ میسر ہو خود کلامی کا
فراق ہو گئے پتھر ہمارے دونوں پاؤں
بڑا تھا ناز ہمیں اپنی تیز گامی کا
فراق جلالپوری
No comments:
Post a Comment