بعد مدت انہیں دیکھ کر یوں لگا
جیسے بے تاب دل کو قرار آ گیا
آرزووں کے گُل مسکرانے لگے
جیسے گُلشن میں جانِ بہار آ گیا
تشنہ نظریں ملیں شوخ نظروں سے جب
مئے برسنے لگی جام بھرنے لگے
ساقیا! آج تیری ضرورت نہیں
بن پیۓ بن پلائے خمار آ گیا
رات سونے لگی صبح ہونے لگی
شمع بجھنے لگی دل مچلنے لگے
وقت کی روشنی میں نہائی ہوئی
زندگی پہ عجب سا نکھار آ گیا
ہر طرف مستیاں، ہر طرف دل کشی
مسکراتے دلوں میں خوشی ہی خوشی
کتنا چاہا مگر پھر بھی اٹھ نہ سکا
تیری محفل میں جو اک بار آ گیا
روشن نندا
No comments:
Post a Comment