Thursday, 11 March 2021

بعد مدت انہیں دیکھ کر یوں لگا

 بعد مدت انہیں دیکھ کر یوں لگا

جیسے بے تاب دل کو قرار آ گیا

آرزووں کے گُل مسکرانے لگے

جیسے گُلشن میں جانِ بہار آ گیا


تشنہ نظریں ملیں شوخ نظروں سے جب

مئے برسنے لگی جام بھرنے لگے

ساقیا! آج تیری ضرورت نہیں

بن پیۓ بن پلائے خمار آ گیا


رات سونے لگی صبح ہونے لگی

شمع بجھنے لگی دل مچلنے لگے

وقت کی روشنی میں نہائی ہوئی

زندگی پہ عجب سا نکھار آ گیا


ہر طرف مستیاں، ہر طرف دل کشی

مسکراتے دلوں میں خوشی ہی خوشی

کتنا چاہا مگر پھر بھی اٹھ نہ سکا

تیری محفل میں جو اک بار آ گیا


روشن نندا

No comments:

Post a Comment