اسی کے قرب میں رہ کر ہری بھری ہوئی ہے
سہارے پیڑ کے یہ بیل جو کھڑی ہوئی ہے
ابھی سے چھوٹی ہوئی جا رہی ہیں دیواریں
ابھی تو بیٹی ذرا سی مِری بڑی ہوئی ہے
بنا کے گھونسلہ چڑیا شجر کی بانہوں میں
نہ جانے کس لیے آندھی سے ڈری ہوئی ہے
ابھی تو پہلے سفر کی تھکن ہے پاؤں میں
کہ پھر سے جوتی پہ جوتی مِری پڑی ہوئی ہے
نئی رُتوں کے مقدس بلاوے تو ہیں مگر
صلیب وعدوں کی جو رہ میں اک گڑی ہوئی ہے
میں ہاتھ باندھے ہوئے لوٹ آئی ہوں گھر میں
کہ میرے پرس میں اک آرزو مِری ہوئی ہے
اگر بچھڑنے کا اس سے کوئی ملال نہیں
شبانہ اشک سے پھر آنکھ کیوں بھری ہوئی ہے
شبانہ یوسف
No comments:
Post a Comment