Sunday, 7 March 2021

اسی کے قرب میں رہ کر ہری بھری ہوئی ہے

 اسی کے قرب میں رہ کر ہری بھری ہوئی ہے

سہارے پیڑ کے یہ بیل جو کھڑی ہوئی ہے

ابھی سے چھوٹی ہوئی جا رہی ہیں دیواریں

ابھی تو بیٹی ذرا سی مِری بڑی ہوئی ہے

بنا کے گھونسلہ چڑیا شجر کی بانہوں میں

نہ جانے کس لیے آندھی سے ڈری ہوئی ہے

ابھی تو پہلے سفر کی تھکن ہے پاؤں میں

کہ پھر سے جوتی پہ جوتی مِری پڑی ہوئی ہے

نئی رُتوں کے مقدس بلاوے تو ہیں مگر

صلیب وعدوں کی جو رہ میں اک گڑی ہوئی ہے

میں ہاتھ باندھے ہوئے لوٹ آئی ہوں گھر میں

کہ میرے پرس میں اک آرزو مِری ہوئی ہے

اگر بچھڑنے کا اس سے کوئی ملال نہیں

شبانہ اشک سے پھر آنکھ کیوں بھری ہوئی ہے


شبانہ یوسف

No comments:

Post a Comment