Saturday, 20 March 2021

یہ بزم شب ہے یہاں علم و آگہی کم ہے

 یہ بزمِ شب ہے یہاں علم و آگہی کم ہے

کئی چراغ جلے پھر بھی روشنی کم ہے

اسی لیے تو مِری اس سے دوستی کم ہے

وہ خود پرست زیادہ ہے، آدمی کم ہے

خطا ہے اپنی کہ ماحول ہے زمانے کا 

نگاہ گرم بہت، صلح و آشتی کم ہے 

فضا بدلنے سے دل تو بدل نہیں جاتے 

وہ انقلاب ہے کیا جس کی زندگی کم ہے 

خیال تازہ اُمڈتے ہیں بادلوں کی طرح 

مجھے یہ غم کہ مِرا ظرفِ شاعری کم ہے


نامی انصاری

No comments:

Post a Comment