چراغِ دل جلانے میں یقیناً وقت لگتا ہے
فصیلِ شب گِرانے میں یقیناً وقت لگتا ہے
کسی کو یاد کرنے میں نہیں ہے وقت کی بندش
کسی کو بُھول جانے میں یقیناً وقت لگتا ہے
یہ میرا کعبۂ دل کوئی ڈھا سکتا نہیں لیکن
ابابیلیں بُلانے میں یقیناً وقت لگتا ہے
کئی مظلوم آنکھیں دفعتاً سیلاب لاتی ہیں
مگر کشتی بنانے میں یقیناً وقت لگتا ہے
متاعِ دل کسی کے نام مت کر دینا
کسی کو آزمانے میں یقیناً وقت لگتا ہے
ہزاروں کوششیں کر لو محبت چیز ہے ایسی
یہ رشتہ ٹوٹ جانے میں یقیناً وقت لگتا ہے
جلا کر راکھ کرتی ہے جسے چھوٹی سی چنگاری
اسی گھر کو بنانے میں یقیناً وقت لگتا ہے
پرویز مانوس
No comments:
Post a Comment