ڈھلتی شام، خیال اور میں
تیری یاد، ملال اور میں
کون، کہاں، کیسے اور کیوں
اُلجھے چند سوال، اور میں
خوشبو بیتے لمحوں کی
رنگوں کا اک جال اور میں
عہدِ وفا کے خواب اور تُو
وقت کی ظالم چال اور میں
کون بھلا سُلجھائے گا
اُلجھ گئے ہیں بال اور میں
ڈُھونڈ رہے ہیں اب بھی تجھے
دھڑکن کی ہر تال اور میں
عنبرین خان
No comments:
Post a Comment