چلتے چلتے سال کتنے ہو گئے
پیڑ بھی رَستے کے بوڑھے ہو گئے
چاند کو میں چھُو نہیں پایا، مگر
خواب سب میرے سنہرے ہو گئے
اُنگلیاں مضبوط ہاتھوں سے چھُٹیں
بھیڑ میں بچے اکیلے ہو گئے
حادثہ کل آئینہ پر کیا ہوا
ریزہ ریزہ عکس میرے ہو گئے
ڈُھونڈئیے تو دُھوپ میں ملتے نہیں
مُجرموں کی طرح سائے ہو گئے
میری خاموشی پہ تھے جو طعنہ زن
شور میں اپنے ہی بہرے ہو گئے
میری گُمنامی سے اظہر جب ملے
شہرتوں کے ہاتھ میلے ہو گئے
اظہر عنایتی
No comments:
Post a Comment