شکوہ رکھتے ہیں خدایا اپنے آب و گِل سے ہم
دور ہے اب ہم سے محفل دور ہیں محفل سے ہم
ہر نگاہِ ناوک افگن سے الجھ جاتا ہے یہ
باز آئے، باز آئے، اس دلِ بسمل سے ہم
یا وہ عالم تھا کہ ہر منزل میں تھیں نیرنگیاں
یا یہ منزل ہے کہ ہیں بیگانۂ منزل سے ہم
تھی لبِ ساحل پہ اک خاموش جنبش سی فقط
جب تلاطم پاس تھا اور دور تھے ساحل سے ہم
شرقی امروہوی
No comments:
Post a Comment