پتھروں کا کھیل جاری ہے سروں کے درمیاں
زندگی ٹھہرے کہاں ان وحشتوں کے درمیاں
بزمِ ناؤ نوش کا یہ شور و غل اپنی جگہ
کوئی نغمہ زیرِِ لب، اونچے سُروں کے درمیاں
میں تو سچی بات کہہ سکتا ہوں اب بھی برملا
فرق آ جائے گا لیکن دوستوں کے درمیاں
وقت کے سیلاب نے سب کچھ مٹا کر رکھ دیا
ایک چھپر بھی نہیں باقی گھروں کے درمیاں
فلسفہ، مذہب، سیاست، خودپرست، برہمی
راستہ ملتا نہیں ان جنگلوں کے درمیاں
اپنی پُرسش آپ ہی کرتے رہیں گے عمر بھر
اعتبارِِ فن کہاں صورت گروں کے درمیاں
کس کا نقش ناز یارب! میرے دل پر ثبت ہے
کوئی صورت خوش نہ آئے مہوشوں کے درمیاں
یہ زمینِ گل بہ داماں شعلہ رو کب ہوئی
کوئی کتبہ مل گیا پتھروں کے درمیاں
ان کا اک حرفِ سخن بھاری مِرے دیوان پر
میں کہ ٹھہرا پستہ قد خوش قامتوں کے درمیاں
نامی انصاری
No comments:
Post a Comment