Wednesday, 24 March 2021

ہر گوشہ عالم میں زمانے کی صدا ہوں

 ہر گوشۂ عالم میں زمانے کی صدا ہوں 

میں وقت پہ چلتا ہوا نقشِ کفِ پا ہوں 

اے دشتِ تخیّل! تِری خاموش نوا ہوں 

میں نقشِ حقیقت ہوں مگر خوابِ نما ہوں 

اک عالم دنیا ہے مِری ذات کے اندر 

میں آگ بھی مٹی بھی ہوں پانی ہوں ہوا ہوں 

دو لخت ہوا ہوں میں تِری جلوہ گری سے 

ایسی ہے چکاچوند کہ سائے سے جدا ہوں 

دن بھر کی عطش دھوپ کو دامن میں سمیٹے

میں شام کے سورج کی طرح ڈوب رہا ہوں


ریاض الدین عطش

No comments:

Post a Comment