ہر ایک حرف ہو امکان تیرے جیسا ہو
مِری کتاب کا عنوان تیرے جیسا ہو
ہزار بار گوارا ہے پارسائی کو
جو میری ذات پہ بہتان تیرے جیسا ہو
کوئی سوال جو مشکل نہ ہو تیرے جیسا
کوئی جواب جو آسان تیرے جیسا ہو؟
میں عمر قید بصد ناز کاٹ سکتی ہوں
مِرے نصیب میں زِندان تیرے جیسا ہو
محبتوں کا صلہ ہو تو ہو تِرے جیسا
محبتوں میں ہو نقصان، تیرے جیسا ہو
میں اس کے حال پہ قربان میرے دل جو بھی
وفا کی راہ میں ہلکان تیرے جیسا ہو
مجھے قبول ہے، بارِ دِگر عنایت ہو
مگر یہ شرط ہے احسان تیرے جیسا ہو
شفا بھی دیتا ہے یہ معجزہ محبت کا
کسی مریض کا ایمان تیرے جیسا ہو
نینا عادل
No comments:
Post a Comment