Friday, 16 July 2021

رات کا پچھلا پہر کیسی نشانی دے گیا

 رات کا پچھلا پہر کیسی نشانی دے گیا

مُنجمد آنکھوں کے دریا کو روانی دے گیا

میں صداقت کا علمبردار سمجھا تھا جسے

وہ بھی جب رُخصت ہُوا تو اک کہانی دے گیا

پہلے اپنا تجزیہ کرنے پہ اُکسایا مجھے

پھر نتیجہ خیزیوں کو بے زبانی دے گیا

کیوں اُجالوں کی نوازش ہو رہی ہے ہر طرف

کیا کوئی بُجھتے چراغوں کو جوانی دے گیا

کیوں نہ اس آوارہ بادل کو دعائیں دیجئے

جو سمندر کو خلش صحرا کو پانی دے گیا


اقبال اشہر

اقبال اشعر

No comments:

Post a Comment