Wednesday, 3 November 2021

سدا بہار کچھ بھی نہیں ہے

 سدا بہار کچھ بھی نہیں ہے

بس جو ہیں

تو ہماری مجبوریاں

ان پر بہار رہتی ہے

یہ ہر موسم میں

ہماری زندگی کی کیاریوں میں

کِھلتی رہتی ہیں

اکثر چاندنی راتوں میں

تاکتی ہیں

سفیدے کے پھولوں پر جم کر

اور بارشوں میں

آسمانی بجلی کی طرح

ہمارے سروں پر منڈلاتی ہیں

کبھی کبھی

یہ جھینگر کی آواز بن کر

ہماری نیندوں میں گھس آتی ہیں

اور ہمیں جاگنے دیتی ہیں

ہم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے

ہم انہیں اپنی ایڑیوں سے

کچل بھی نہیں سکتے

اور نہ انہیں 

کیڑے مار دواؤں سے مار کر

بھگا سکتے ہیں

ہم جانتے ہیں

جب ہم نہیں رہیں گے

تو بھی یہ رہیں گی

ہماری مجبوریاں

تب یہ ہمارے ناموں کے ساتھ

یاد کی جائیں گی


عذرا عباس

No comments:

Post a Comment