سدا بہار کچھ بھی نہیں ہے
بس جو ہیں
تو ہماری مجبوریاں
ان پر بہار رہتی ہے
یہ ہر موسم میں
ہماری زندگی کی کیاریوں میں
کِھلتی رہتی ہیں
اکثر چاندنی راتوں میں
تاکتی ہیں
سفیدے کے پھولوں پر جم کر
اور بارشوں میں
آسمانی بجلی کی طرح
ہمارے سروں پر منڈلاتی ہیں
کبھی کبھی
یہ جھینگر کی آواز بن کر
ہماری نیندوں میں گھس آتی ہیں
اور ہمیں جاگنے دیتی ہیں
ہم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے
ہم انہیں اپنی ایڑیوں سے
کچل بھی نہیں سکتے
اور نہ انہیں
کیڑے مار دواؤں سے مار کر
بھگا سکتے ہیں
ہم جانتے ہیں
جب ہم نہیں رہیں گے
تو بھی یہ رہیں گی
ہماری مجبوریاں
تب یہ ہمارے ناموں کے ساتھ
یاد کی جائیں گی
عذرا عباس
No comments:
Post a Comment