Wednesday, 22 December 2021

یہ حسن کم نہیں ہے جہاں کے کفیل کا

 یہ حسن کم نہیں ہے جہاں کے کفیل کا

کاسہ بھرا ہوا ہے یہاں ہر بخیل کا

زندہ رہیں سدا مِرے یارانِ با وفا

احسان کیوں اٹھاؤں کسی بھی ذلیل کا

ہم بھی سمٹ کے رہ گئے ہجراں کی قید میں

کچھ قد بھی اور بڑھ گیا شب کی فصیل کا

اس کے بیاں کو چاہیۓ اک اُخروی حیات

ہر سانحہ عظیم ہے عمرِ قلیل کا

محشر میں جب خدا یہ کہے گا کہ؛ کچھ کہو

میں اک کلام چھیڑوں گا بحرِ طویل کا

جوہر مِرا کیۓ ہے پریشاں مجھے یہاں

یہ دشتِ خاکداں نہیں میری قبیل کا

مجھ کو گرائے گا یہ زمانہ، ارے نہیں

میں فرش پر ستون ہوں عرشِ جلیل کا

آتش ذرا سی مانگیۓ سوزِ کلیم سے

جذبہ تلاش کیجیۓ قلبِ خلیل کا

اسفر کہی سنی پہ کروں اعتماد کیوں

قائل ہوں اعتقاد میں عقلی دلیل کا


اسفر ہاشمی

No comments:

Post a Comment