Friday, 24 December 2021

کرتے رہنا سہل ہمیشہ ان کی ہر تدبیر بہت

 کرتے رہنا سہل ہمیشہ ان کی ہر تدبیر بہت

محنت اور مشقت والے ہاتھوں کی توقیر بہت

اپنے لفظوں اور خوابوں کے ریشم سے اے کوزہ گرو

اِن کے گِرد بنائے رکھنا، جذبوں کی زنجیر بہت

اک صدمے سے دُوجےغم تک کس کو یہ معلوم نہیں

کھیل کیا کرتی ہے اِن سے قسمت اور تقدیر بہت

موسم اور ہوا نے صدیوں دئیے کی لَو بھڑکانے کو

جو آزار لکھے ہیں مل کر اِن کی ہے تفسیر بہت

رخساروں پر خشک ندی سے بہتر کوئی افسانہ

جی میں آتا ہے ہو جائے ہر اک جا تحریر بہت

جھیل رہے ہیں لمحہ لمحہ کیا موسم کو بتلائیں

سورج کی بستی میں محسن جینے کی تعزیر بہت


محسن شکیل

No comments:

Post a Comment