ہماری آنکھوں میں گر نمی ہے تو زندگی ہے
جو زندگی میں کوئی کمی ہے تو زندگی ہے
سکوت طاری جو ہو گیا تو تمام شد ہے
کوئی خموشی جو بولتی ہے تو زندگی ہے
نہ ہو خیال اور خواب کوئی تو اک خلا ہے
جو سوچ پاگل بھٹک رہی ہے تو زندگی ہے
تمام حاصل تو زندہ رہنا نہیں گوارا
ذرا کہیں کوئی تشنگی ہے تو زندگی ہے
جو موڑ آگے پڑا ہوا ہے وہ جا کے دیکھو
وہاں نئی راہ گر بنی ہے تو زندگی ہے
میں روز خود سے جھگڑ کے خود کو منا رہی ہوں
کہ میری مجھ سے ٹھنی ہوئی ہے تو زندگی ہے
کسی کو گھائل کیے ہوئے ہے وہ چوٹ فرحت
تمہارے دل پر اگر لگی ہے تو زندگی ہے
آئرین فرحت
No comments:
Post a Comment