Friday, 24 December 2021

ہماری آنکھوں میں گر نمی ہے تو زندگی ہے

ہماری آنکھوں میں گر نمی ہے تو زندگی ہے

جو زندگی میں کوئی کمی ہے تو زندگی ہے

سکوت طاری جو ہو گیا تو تمام شد ہے

کوئی خموشی جو بولتی ہے تو زندگی ہے

نہ ہو خیال اور خواب کوئی تو اک خلا ہے

جو سوچ پاگل بھٹک رہی ہے تو زندگی ہے

 تمام حاصل تو زندہ رہنا نہیں گوارا

ذرا کہیں کوئی تشنگی ہے تو زندگی ہے

جو موڑ آگے پڑا ہوا ہے وہ جا کے دیکھو

وہاں نئی راہ گر بنی ہے تو زندگی ہے

میں روز خود سے جھگڑ کے خود کو منا رہی ہوں

کہ میری مجھ سے ٹھنی ہوئی ہے تو زندگی ہے

کسی کو گھائل کیے ہوئے ہے وہ چوٹ فرحت

تمہارے دل پر اگر لگی ہے تو زندگی ہے


آئرین فرحت

No comments:

Post a Comment