عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا
کہ جو میرے غم میں گھلا کیا، اسے میں نے دل سے بھلا دیا
جو جمالِ روئے حیات تھا،۔ جو دلیل راہِ نجات تھا
اسی راہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا
تِرےؐ حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا
تِرےؐ ثور و بدر کے باب کے میں ورق الٹ کے گزر گیا
مجھے صرف تیریؐ حکایتوں کی روایتوں نے مزا دیا
تِراؐ نقشِ پا تھا جو رہنما، تو غبارِ راہ تھی کہکشاں
اسے کھو دیا تو زمانے بھر نے ہمیں اس سے گرا دیا
میرا رہنماؐ، تیرا شکریہ کروں کس زباں سے بھلا ادا
کہ زندگی کی اندھیری شب میں چراغِ فکر جلا دیا
میں تِرےؐ مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا
تِرےؐ دشمنوں نے تِرےؐ چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا
یہ میری عقیدت بے بصر، یہ میری ریاضت بے ہنر
مجھے میرے دعویٰ عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا
کبھی اے عنایتِ کم نظر تیرے دل میں یہ بھی کسک ہوئی
جو تبسمِ رخِ زیست تھا، اسے تیرے غم نے رُلا دیا
عنایت علی خان
No comments:
Post a Comment