Wednesday, 2 June 2021

سرسبز تھے حروف پہ لہجے میں حبس تھا

 سرسبز تھے حروف پہ لہجے میں حبس تھا

کیسے عجب مزاج کا مالک وہ شخص تھا

پھر دوسرے ہی دن تھا عجب اس شجر کا حال

سبزے کی ان منڈیروں پہ پت جھڑ کا رقص تھا

تجزیہ کرتا ہوں تو ندامت ہی ہوتی ہے

در اصل میرے اپنے روئیے میں نقص تھا

گو وہ رہا سدا سے مِرا منحرف مگر

اس کی ہر ایک طرز پہ میرا ہی عکس تھا

حائل تھے دشت لفظوں کی تفہیم میں مگر

اس کے شفیق لہجے میں دھرتی کا لمس تھا


طارق جامی

No comments:

Post a Comment