دُخترِ مشرق
اے دُخترِ مشرق
تیرے حوصلے کو سلام
دُخترِ مشرق کا یوں تو ہوتا ہے
ایک ننھا سا دل
جسے دے کر ہر ایک کو وہ اپنا بنانے لگتی ہے
کھلنڈرے پن سے ہی
وہ اپنے ننھے سے دل میں
سبھی کے دُکھ درد کو سمانے لگتی ہے
سبھی کے غموں کو وہ بڑی ہمدردی سے
اپنانے لگتی ہے
وہ اپنوں کو، مزید اپنا بنانے لگتی ہے
وہ اپنوں کی خوشی کی خاطر
ہر دم مُسکراتی رہتی ہے
سبھی سے عہد و پیماں نبھاتی رہتی ہے
ماں باپ بھائی بہن سکھی سہیلیاں
دوست احباب اساتذہ رشتے دار
سبھی ہوتے ہیں اس کی محبت کے حقدار
سبھی سے وہ رسم محبت نبھاتی رہتی ہے
دل چاہے نہ چاہے
ہر دم مُسکراتی رہتی ہے
خود ناشاد رہ کر بھی وہ کرتی ہے
دوسروں کی تیمارداری
وہ اپنوں کی خاطر
اپنی جان کی بازی لگانے لگتی ہے
بڑا حوصلہ ہوتا ہے دُخترِ مشرق میں
اندر سے دُکھی رہ کر بھی وہ
ہر دم مُسکراتی رہتی ہے
مائیکے سے سُسرال کی باتیں
سُسرال سے مائیکے کی باتیں
کمالِ ہُنر مندی سے چُھپانے لگتی ہے
دل زخمی ہونے پر بھی وہ
اپنے ہونٹوں پر
ہر دم مُسکان سجاتی رہتی ہے
وہ اپنوں کی خوشی کی خاطر
ہر دم مُسکراتی رہتی ہے
اے دُخترِ مشرق
تیرے حوصلے کو سلام
پرویز شہریار
No comments:
Post a Comment