اب تو ہے ہر سُو مُفلسی محبت کی
قصّے وہ الفت کے رہ گٸے بس کتابوں میں
مثلِ قندیل ہے جہاں کے لیے سراپا جس کا
ہم کو وہ شخص ملتا ہے سو حجابوں میں
سوال جب بھی اٹھایا گیا بزم میں محبت کا
میں ڈھونڈتی رہ گٸی اک نام اس کے جوابوں میں
فاصلے سمٹ کر رہ گٸے اب تو دو پل میں
کون ڈھونڈے اب وہ پتے پرانے حسابوں میں
سب کام پینڈنگ پہ رکھ کر سونا ہے مجھے
اس سے ملنے کی بڑی سہولت ہے خوابوں میں
فاکہہ تبسم
No comments:
Post a Comment