ہمنوا میرے مجھ سے جُدا ہو گئے
وہ خفا کیا ہوئے سب خفا ہو گئے
حسن کا رازِ سر بستہ کھُل جائے گا
لالہ و گُل اگر لب کشا ہو گئے
آپ اپنے ہی جلوے تھے پیش نظر
حسرتیں بڑھ گئیں آئینہ ہو گئے
یہ مِرا فن کہ میں نے تراشا جنہیں
پتھروں کے وہ بُت سب خدا ہو گئے
جب سے محفل میں تم جان محفل ہوئے
بے وفا سب کے سب با وفا ہو گئے
کام آ ہی گیا اپنا دیوانہ پن
لذتِ سنگ سے آشنا ہو گئے
دی اسیر اپنی آنکھوں میں جن کو جگہ
شہرِ دل کے وہ فرماں روا ہو گئے
اسیر جبلپوری
No comments:
Post a Comment