Saturday, 10 August 2024

ہر ایک شخص خفا مجھ سے انجمن میں تھا

 ہر ایک شخص خفا مجھ سے انجمن میں تھا

کہ میرے لب پہ وہی تھا جو میرے من میں تھا

کسک اٹھی تھی کچھ ایسی کہ چیخ چیخ پڑوں

رہا میں چپ ہی کہ بہروں کی انجمن میں تھا

الجھ کے رہ گئی جامے کی دلکشی میں نظر

اسے کسی نے نہ دیکھا جو پیرہن میں تھا

کبھی میں دشت میں آوارہ اک بگولا سا

کبھی میں نکہت گل کی طرح چمن میں تھا

میں اس کو قتل نہ کرتا تو خودکشی کرتا

وہ اک حریف کی صورت مِرے بدن میں تھا

اسی کو میرے شب و روز پر محیط نہ کر

وہ ایک لمحۂ کمزور جو گہن میں تھا

مِری صدا بھی نہ مجھ کو سنائی دی صابر

کچھ ایسا شور بپا صحن انجمن میں تھا


نوبہار صابر

No comments:

Post a Comment