میں سوچتا ہوں بچھڑ کے اس سے ہمارا آخر میں کیا بنے گا
جو آج پتھر ہے دیکھنا تم کسی کا یہ بھی خدا بنے گا
تو کوزہ گر تُو مجھے بنانے کی جستجو میں لگا ہوا ہے
جہان بھر کے تمام دُکھ لے ذرا سی مٹی ملا، بنے گا
ہماری آنکھوں کے خواب سارے تمہاری آنکھوں سے جڑ چکے ہیں
یہ چار آنکھیں جو اب ملی ہیں تو کچھ نہ کچھ تو نیا بنے گا
جو بیچ دریا ہیں ان کی مد میں مجھے ہی لا کر بٹھایا جائے
یہ چند باتیں سمجھ جو جاؤ تو اس تلک راستہ بنے گا
ہوئی ہے مدت تمہارا چہرہ ہماری آنکھیں نہ دیکھ پائیں
نہ تُو ملا تو یہ سوچتا ہوں ہماری آنکھوں کا کیا بنے گا
کسی کی دنیا اُجاڑ کر تم کسی کی دنیا بسا رہے ہو
میں سوچتاہوں کہ اب تو عاشر تمہارا محشر میں کیا بنے گا
راشد خان عاشر
No comments:
Post a Comment