سوچتے کب ہیں کب ٹھہرتے ہیں
کرنے والے تو کر گزرتے ہیں
کچھ سوالات ہیں خدا سے مِرے
تم خدا ہو تو بات کرتے ہیں
ایک سیارہ کھینچتا ہے ہمیں
جب قدم کہکشاں پہ دھرتے ہیں
اس طرح تو کوئی عدو نہ کرے
جو رویّے انہوں نے برتے ہیں
جسم کچھ بعد کی کہانی ہے
پہلے آنکھوں میں خواب مرتے ہیں
ماہرِ نفسیات!! حل کوئی؟
اپنی پرچھائیوں سے ڈرتے ہیں
اُن کی آنکھوں میں دیکھنے والے
میٹھے چشمے سے پانی بھرتے ہیں
فیض محمد شیخ
No comments:
Post a Comment