Saturday, 3 April 2021

سوچتے کب ہیں کب ٹھہرتے ہیں

 سوچتے کب ہیں کب ٹھہرتے ہیں

کرنے والے تو کر گزرتے ہیں

کچھ سوالات ہیں خدا سے مِرے

تم خدا ہو تو بات کرتے ہیں

ایک سیارہ کھینچتا ہے ہمیں

جب قدم کہکشاں پہ دھرتے ہیں

اس طرح تو کوئی عدو نہ کرے

جو رویّے انہوں نے برتے ہیں

جسم کچھ بعد کی کہانی ہے

پہلے آنکھوں میں خواب مرتے ہیں

ماہرِ نفسیات!! حل کوئی؟

اپنی پرچھائیوں سے ڈرتے ہیں

اُن کی آنکھوں میں دیکھنے والے

میٹھے چشمے سے پانی بھرتے ہیں


فیض محمد شیخ

No comments:

Post a Comment