آنکھوں کے دھاگے
میں جو چوراہے پہ کھڑی
اپنی کمان کی طرف لوٹنا چاہتی ہوں
وہ جو لہو میں پھنسا
کچھ اور جینا چاہتا ہے
میرا سایہ جیسے کسی دیوار کے ساتھ شامل ہو گیا ہو
آنکھوں کے دھاگے پانیوں میں بہا دئیے گئے ہوں
تم کہ شام کے سُورج سے دُھوپ چُراتے ہو
میں کہ صبح کی رات بھی چُرا لیتی ہوں
تھکا ماندہ صبح کا تارہ
جب سارے آسمان پر اکیلا ہوتا ہے
اسی وقت کی قدر کرتی ہوں
سارا شگفتہ
سارہ شگفتہ
No comments:
Post a Comment