Saturday, 3 April 2021

میں جو چوراہے پہ کھڑی اپنی کمان

 آنکھوں کے دھاگے


میں جو چوراہے پہ کھڑی

اپنی کمان کی طرف لوٹنا چاہتی ہوں

وہ جو لہو میں پھنسا

کچھ اور جینا چاہتا ہے

میرا سایہ جیسے کسی دیوار کے ساتھ شامل ہو گیا ہو

آنکھوں کے دھاگے پانیوں میں بہا دئیے گئے ہوں

تم کہ شام کے سُورج سے دُھوپ چُراتے ہو

میں کہ صبح کی رات بھی چُرا لیتی ہوں

تھکا ماندہ صبح کا تارہ

جب سارے آسمان پر اکیلا ہوتا ہے

اسی وقت کی قدر کرتی ہوں


سارا شگفتہ

سارہ شگفتہ

No comments:

Post a Comment