بتا رہے ہو کہ غیروں کا ڈر اتارتے تھے
تم ایسے لوگ جو اپنوں کے سر اتارتے تھے
وہاں کے لوگ بتاتے ہیں جنگجو خود کو
سبھی غنیم تھکاوٹ جدھر اتارتے تھے
نجانے کون سی مٹی کی باقیات ہیں ہم
یہاں تو قافلے رختِ سفر اتارتے تھے
انہی کی نسل ہے اب بھی ہمارے کاندھوں پر
وہ تسمہ پا جو مسافر کا سر اتارتے تھے
انہیں مرض تھا مِری جاں زباں کی خارش کا
کہ جو زمین پہ شمس و قمر اتارتے تھے
مِرا قبیلہ ہی موجد تھا اس تماشے کا
کہ جس میں لوگ مداری کا سر اتارتے تھے
ہم ایسے لوگ متاثر نہ کر سکے تم کو
کہ جن کی اہلِ نظر بھی نظر اتارتے تھے
ہماری آنکھ میں صدیوں کی بھوک ہے عرفی
کہ ہم جو شاخ سے کچا ثمر اتارتے تھے
عرفان عرفی
No comments:
Post a Comment