Saturday, 3 April 2021

بتا رہے ہو کہ غیروں کا ڈر اتارتے تھے

 بتا رہے ہو کہ غیروں کا ڈر اتارتے تھے

تم ایسے لوگ جو اپنوں کے سر اتارتے تھے

وہاں کے لوگ بتاتے ہیں جنگجو خود کو

سبھی غنیم تھکاوٹ جدھر اتارتے تھے

نجانے کون سی مٹی کی باقیات ہیں ہم

یہاں تو قافلے رختِ سفر اتارتے تھے

انہی کی نسل ہے اب بھی ہمارے کاندھوں پر

وہ تسمہ پا جو مسافر کا سر اتارتے تھے

انہیں مرض تھا مِری جاں زباں کی خارش کا

کہ جو زمین پہ شمس و قمر اتارتے تھے

مِرا قبیلہ ہی موجد تھا اس تماشے کا

کہ جس میں لوگ مداری کا سر اتارتے تھے

ہم ایسے لوگ متاثر نہ کر سکے تم کو

کہ جن کی اہلِ نظر بھی نظر اتارتے تھے

ہماری آنکھ میں صدیوں کی بھوک ہے عرفی

کہ ہم جو شاخ سے کچا ثمر اتارتے تھے


عرفان عرفی

No comments:

Post a Comment