دل و دماغ پہ کچھ ایسا بوجھ ڈالا گیا
تِرا خیال بھی مجھ سے نہیں سنبھالا گیا
مجھے قبول نہیں تھا بچھڑ کے مر جانا
اسی لیے تو کہانی سے میں نکالا گیا
گزرنے والے مجھے دیکھتے ہیں حیرت سے
یہ کیسے چاک پہ میرا وجود ڈھالا گیا
تجھے بوقتِ جدائی نہ دیکھ پاتا میں
سو اس سے پہلے مِری آنکھوں سے اُجالا گیا
کسی کے پاس کئی روز تک کا کھانا ہے
کسی کے پیٹ میں اک بھی نہیں نوالا گیا
فیض محمد شیخ
No comments:
Post a Comment