تھا ایک عمر سے جس شخص کو بھلایا ہوا
وہ کچھ دنوں سے برابر ہے یاد آیا ہوا
میرا سروں سے نہیں دور کا تعلق بھی
وہ کوئی گیت ہے مہدی حسن کا گایا ہوا
مریخ، چاند، ستارے، خلا، فلک، بادل
بتا کہاں پہ نہیں لم یزل سمایا ہوا؟
مجھے پرایا کیا ہے، مگر یہ یاد رہے
تُو میرے دل سے ابھی تک نہیں پرایا ہوا
تمہارے دم سے بنی ہے حیات سہل مِری
ہرا لباس تو تن پر نہیں اُگایا ہوا
وہ میرے ہاتھ بڑھانے پہ آ گیا باہر
تھا کینوس پہ کسی رنگ سے جمایا ہوا
تمہارے تلخ رویے سے مر گیا انعم
زمانے بھر کا نہیں ہے یہ دل ستایا ہوا
انعمتا علی
No comments:
Post a Comment