Thursday, 8 July 2021

تھا ایک عمر سے جس شخص کو بھلایا ہوا

 تھا ایک عمر سے جس شخص کو بھلایا ہوا

وہ کچھ دنوں سے برابر ہے یاد آیا ہوا

میرا سروں سے نہیں دور کا تعلق بھی

وہ کوئی گیت ہے مہدی حسن کا گایا ہوا

مریخ، چاند، ستارے، خلا، فلک، بادل

بتا کہاں پہ نہیں لم یزل سمایا ہوا؟

مجھے پرایا کیا ہے، مگر یہ یاد رہے

تُو میرے دل سے ابھی تک نہیں پرایا ہوا

تمہارے دم سے بنی ہے حیات سہل مِری

ہرا لباس تو تن پر نہیں اُگایا ہوا

وہ میرے ہاتھ بڑھانے پہ آ گیا باہر

تھا کینوس پہ کسی رنگ سے جمایا ہوا

تمہارے تلخ رویے سے مر گیا انعم

زمانے بھر کا نہیں ہے یہ دل ستایا ہوا


انعمتا علی

No comments:

Post a Comment