ہر ایک شخص کہاں سُوئے دار آتا ہے
کسی کسی کے جُنوں پر نکھار آتا ہے
کبھی کبھی تو خوشی زہر لگنے لگتی ہے
کبھی کبھی تو اُداسی پہ پیار آتا ہے
فریب دیتے ہیں خود کو بھی دوسروں کو بھی
یہ بار بار کسے اعتبار آتا ہے
تمہارے بعد تو نشے کے معنی بھُول گئے
ہمیں پتا نہیں کیسے خُمار آتا ہے
تکلفات نہ کیجیو کہ خود تمہارے پاس
تمہاری آنکھوں پہ مرنے شکار آتا ہے
فیض محمد شیخ
No comments:
Post a Comment