Friday, 26 March 2021

رحمت العالمین تیرے عشاق سے ڈر لگتا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


رحمت العالمین تیرے عشاق سے ڈر لگتا ہے

ضعیف العتقاد ماں باپ سے ڈر لگتا ہے

نامُوس کے سیاق و سباق سے ڈر لگتا ہے

انسانیت کی تذلیل و مذاق سے ڈر لگتا ہے

مجهے خُلد، حُور اور کوثر نہیں چاہیے

الہام و ابہام کے اسباق سے ڈر لگتا ہے

نہیں خوف یہود و ہنود، کافر کے شر سے

تنگ نظر مُلا، زاہدِ بے باک سے ڈر لگتا ہے

حافظہ ہی چهین لے اب تو یا رب میرا

تفسیر، تکبیر اور ادراک سے ڈر لگتا ہے

ہُوک ہو، سسک ہو، گهاؤ ہو، کوئی بات نہیں

انور آزار سے، دلِ صد چاک سے ڈر لگتا ہے


خورشید انور

No comments:

Post a Comment