عارفانہ کلام نعتیہ کلام
رحمت العالمین تیرے عشاق سے ڈر لگتا ہے
ضعیف العتقاد ماں باپ سے ڈر لگتا ہے
نامُوس کے سیاق و سباق سے ڈر لگتا ہے
انسانیت کی تذلیل و مذاق سے ڈر لگتا ہے
مجهے خُلد، حُور اور کوثر نہیں چاہیے
الہام و ابہام کے اسباق سے ڈر لگتا ہے
نہیں خوف یہود و ہنود، کافر کے شر سے
تنگ نظر مُلا، زاہدِ بے باک سے ڈر لگتا ہے
حافظہ ہی چهین لے اب تو یا رب میرا
تفسیر، تکبیر اور ادراک سے ڈر لگتا ہے
ہُوک ہو، سسک ہو، گهاؤ ہو، کوئی بات نہیں
انور آزار سے، دلِ صد چاک سے ڈر لگتا ہے
خورشید انور
No comments:
Post a Comment