Thursday, 20 August 2020

مٹا کے انجمن آرزو صدا دی ہے

مٹا کے انجمنِ آرزو، صدا دی ہے
چلے بھی آؤ کہ ہر روشنی بجھا دی ہے
گر اتفاق سے پایا ہے قطرۂ 💧 شبنم
سمندروں کو مِری پیاس نے دعا دی ہے
ہجومِ راہرواں، روند کر گزرتا ہے
بساط دل کی کہاں ہم نے یہ بچھا دی ہے
کسی کی جان کا ضامن نہیں یہاں کوئی
امینِ شہر کی جانب سے یہ منادی ہے
کہو جو کہنا ہے، کیا پاسِ درد قیسی کا
کہ اس نے دل سے وہ بنیاد ہی مٹا دی ہے

عزیز قیسی

No comments:

Post a Comment