مٹا کے انجمنِ آرزو، صدا دی ہے
چلے بھی آؤ کہ ہر روشنی بجھا دی ہے
گر اتفاق سے پایا ہے قطرۂ 💧 شبنم
سمندروں کو مِری پیاس نے دعا دی ہے
ہجومِ راہرواں، روند کر گزرتا ہے
کسی کی جان کا ضامن نہیں یہاں کوئی
امینِ شہر کی جانب سے یہ منادی ہے
کہو جو کہنا ہے، کیا پاسِ درد قیسی کا
کہ اس نے دل سے وہ بنیاد ہی مٹا دی ہے
عزیز قیسی
No comments:
Post a Comment