Friday, 21 August 2020

صحرائے خیال کا دیا ہوں

صحرائے خیال کا دیا ہوں
ویرانۂ شب میں جل رہا ہوں
ساغر کی طرح سے چور ہو کر
محفل میں بکھر بکھر گیا ہوں
اپنے ہی لہو کی روشنی میں
نیرنگِ جہاں کو دیکھتا ہوں
وہ چاند ہوں گردشوں میں آ کر
خود اپنی نظر سے کٹ گیا ہوں
ہر عہد ہے میرے دم سے رنگین
میں نغمۂ سازِ ارتقاء ہوں
آئینہ صفت نظر سے تیری
عکسِ در و بام بن گیا ہوں
احساس کی تلخیوں میں ڈھل کر
میں درد کا چاند بن گیا ہوں
سن لو مجھے مے کدہ پرستو
بھیگی ہوئی رات کی صدا ہوں
گلزار میں رہ کے بھی رضا میں
خوشبو کے لیے ترس گیا ہوں

رضا ہمدانی

No comments:

Post a Comment