صحرائے خیال کا دیا ہوں
ویرانۂ شب میں جل رہا ہوں
ساغر کی طرح سے چور ہو کر
محفل میں بکھر بکھر گیا ہوں
اپنے ہی لہو کی روشنی میں
وہ چاند ہوں گردشوں میں آ کر
خود اپنی نظر سے کٹ گیا ہوں
ہر عہد ہے میرے دم سے رنگین
میں نغمۂ سازِ ارتقاء ہوں
آئینہ صفت نظر سے تیری
عکسِ در و بام بن گیا ہوں
احساس کی تلخیوں میں ڈھل کر
میں درد کا چاند بن گیا ہوں
سن لو مجھے مے کدہ پرستو
بھیگی ہوئی رات کی صدا ہوں
گلزار میں رہ کے بھی رضا میں
خوشبو کے لیے ترس گیا ہوں
رضا ہمدانی
No comments:
Post a Comment