Friday, 21 August 2020

آ تجھ کو خیال میں بساؤں

آ تجھ کو خیال میں بساؤں
سوۓ ہوۓ درد کو جگاؤں
دل پھٹنے لگا ہے یاد محبوب
آ تجھ کو ہی اب گلے لگاؤں
جز تیرے نہ سن سکے کوئی بھی
اس لے میں تجھے میں گنگناؤں
اے نغمہ طراز! جسمِ موزوں
مصرع کی طرح تجھے اٹھاؤں
جو گزرا ہے تیری خلوتوں میں
کیسے وہ زمانہ بھول جاؤں
ہو بس میں مِرے تو سنگدل کو
حالات کا آئینہ بناؤں

رضا ہمدانی

No comments:

Post a Comment