Friday, 21 August 2020

بیٹیاں پھول ہیں

بیٹیاں پھول ہیں

اور پھول کے مقدر میں
بالآخر بکھرنا ہے
انہیں تو بس مہکنا ہے
سجا دو سیج پر چاہے
چڑھا دو یا مزاروں پر
سہرے میں انہیں گوندھو
لگا دو یا کہ مدفن میں
انہیں تو رنگ بھرنا ہے
انہیں خوشبو پھیلانی ہے
بھلا پھولوں سے ان کی مرضی پوچھتا ہی کون ہے
بتاﺅ تم کو بالوں میں سجائیں یا کہ مرقد پہ
آبیاری ہو کہیں، یا پھر قطع بُرید ہو
پھولوں کے اختیار میں تو بس مہکتے رہنا ہے
اجنبی جذبات کو اپنی زباں میں کہنا ہے
جس رنگ میں باغباں چاہے
گلدستے میں سج جانا ہے
جس کیاری میں چاہے
وہیں پہ ان کو اگنا ہے، وہیں پھل پھول دینے ہیں
وہیں مرجھانا ہے ان کو
پرندوں اور پودوں میں، یہی اک فرق ہے ازلی
کبھی جب بے سبب ہے مہرباں برساتیں روٹھ جائیں تو
یا بدقسمت گھٹائیں راستے کو بھول جائیں تو
کبھی جب پانیوں کی کوکھ بنجر ہونے کو آئے
پرندے ہجرتیں کر کے، نئی آب و زمیں کھوجیں
ٹھکانے، آشیانے، چمن و گلشن سب نیا ڈھونڈیں
مگر پھولوں کو، پودوں کو، مگر بیلوں کی بانہوں کو
وہیں پانی کے مدفن پر، وہیں اشجار کے ساکت بدن پہ خاک ہونا ہے
انہیں گجروں میں سجنا ہے، انہیں راہوں میں رلنا ہے
انہیں گلداں سجانے ہیں
یہی پھولوں کی قسمت ہے، یہی ان کا مقدر ہے
بیٹیاں بھی پھول ہیں

صدف مرزا

No comments:

Post a Comment