میں ہی پہلی کوزہ گر ہوں
میں پہلی دہقان
میں جس کی تخلیق میں رب نے
کھڑ کھڑ کرتی مٹی کے
ریزے کو روا رکھا ہی نہیں
خود اپنی ہڈی کے بالن سے
اپنا تن من سینک کے
اپنے خون کے گارے گھانی سے
تخلیق کروں انسان
میں خوش امید کسان
میں چاہوں تو
آگ سے کھیلوں
گول گھما کر، چاک سے کھیلوں
میں مٹی کی ساکھ سے کھیلوں
میں آدھی انسان؟
صدف مرزا
No comments:
Post a Comment