Friday, 21 August 2020

بس ایک ہی رونا ہے عورت تو کھلونا ہے

عورت تو کھلونا ہے

بس ایک ہی رونا ہے
عورت تو کھلونا ہے
طعنے سب اس کے نام
ہر جرم اسی کا ہے
ہر ستم اسی پر ہے
عصمت تو ہے اک شیشہ
بس حرف کے پتھر سے
اڑ جاتے ہیں سب ریزے
مریم بھی یہ بن جائے
یا عائشہ کہلائے
بہتان ہی دھونا ہے
عورت تو کھلونا ہے
ہر رنگ ہے مات اس کی
ہر روپ ہی بے بس ہے
رشتے ہیں کہ ناطے ہیں
پاؤں کے انگارے ہیں
سب گھاٹے کے سودے ہیں
قسمت کے خسارے کی
ہر فصل یہ کاٹے گی
سب بو لو، جو بونا ہے
عورت تو کھلونا ہے

رسموں کی چنگاری یا
شعلے ہوں روایت کے
ہر آگ میں جل جانا
عزت کے الاؤ ہوں
یا شرارِ نجابت ہو
ایندھن وہ کوئی بھی ہو
خاک اس کو ہی ہونا ہے
عورت تو کھلونا ہے

پارس بھی یہ بن جائے
یا ترشا ہوا ہیرا
ہر فیصلے کے منصف
یہ مرد بتاتے ہیں
مٹی ہے کہ سونا ہے
عورت تو کھلونا ہے

صحرا میں دبا دو یا
دیوار میں چنوا دو
نہ لاۓ جہیز تو پھر
زندہ ہی جلا دو یا
زندہ اسے رکھ کر
مرنے کی سزا دے دو
خداۓ مجازی ہو
جو بوجھ بھی لادو گے
وہ بار ہی ڈھونا ہے
عورت تو کھلونا ہے

سنتے ہیں کہ آدم کی
تکمیل اسی سے تھی
کہتے ہیں کہ پسلی سے
تخلیق اسی کی تھی
یہ سر سے نہیں آئی
کہ تاج ہی بن بیٹھے
پیروں سے نہیں اٹھی
کہ جوتا ہی بنا لو تم
پسلی میں چھپے دل کی
متلاشی یہ رہتی ہے
قلقاری ہو، آنگن ہو
راضی برضا ہے یہ
سود و زیاں کے ہر
احساس سے عاری ہے
کیا پایا؟
کیا کھونا ہے؟
عورت تو کھلونا ہے

آدم کے گناہ پتھر
تہہ آب جو رہتے ہیں
سب جرم ہیں حوا کے
پھولوں کی طرح ہلکے
سطح آب پہ تیریں گے
کچھ فرق نہیں پڑتا
کہ بوجھ یہ عِصیاں کا
لغزش کے سبب ہے
یا جبر و زیادتی ہے
انصاف ملے گا کب؟
فریاد کا فائدہ کیا
دنیا یہ جانتی ہے
انجام جو ہونا ہے
عورت تو کھلونا ہے

دہلیز یہ صدیوں کی
کب اس نے پھلانگی ہے
ہے آج بھی غاروں میں
اس کا جو فسانہ ہے
آج بھی سوچو تو
یہ صرف جسم ہے جو
بکتا ہے، بکھرتا ہے
مفتوحِ شہر ہے جو
ہر بار اجڑتا ہے
یہ عارضی خیمہ ہے
ہر صبح اکھڑتا ہے
نقش ہے فانی سا
بنتا ہے، بگڑتا ہے
دیکھو صدف ہم کو
صدیوں کے فسانے کو
لمحوں میں سمونا ہے
بس کہتے ہیں ہم اتنا
عورت تو کھلونا ہے

صدف مرزا

No comments:

Post a Comment