عورت تو کھلونا ہے
بس ایک ہی رونا ہے
عورت تو کھلونا ہے
طعنے سب اس کے نام
ہر جرم اسی کا ہے
ہر ستم اسی پر ہے
بس حرف کے پتھر سے
اڑ جاتے ہیں سب ریزے
مریم بھی یہ بن جائے
یا عائشہ کہلائے
بہتان ہی دھونا ہے
عورت تو کھلونا ہے
ہر رنگ ہے مات اس کی
ہر روپ ہی بے بس ہے
رشتے ہیں کہ ناطے ہیں
پاؤں کے انگارے ہیں
سب گھاٹے کے سودے ہیں
قسمت کے خسارے کی
ہر فصل یہ کاٹے گی
سب بو لو، جو بونا ہے
عورت تو کھلونا ہے
رسموں کی چنگاری یا
شعلے ہوں روایت کے
ہر آگ میں جل جانا
عزت کے الاؤ ہوں
یا شرارِ نجابت ہو
ایندھن وہ کوئی بھی ہو
خاک اس کو ہی ہونا ہے
عورت تو کھلونا ہے
پارس بھی یہ بن جائے
یا ترشا ہوا ہیرا
ہر فیصلے کے منصف
یہ مرد بتاتے ہیں
مٹی ہے کہ سونا ہے
عورت تو کھلونا ہے
صحرا میں دبا دو یا
دیوار میں چنوا دو
نہ لاۓ جہیز تو پھر
زندہ ہی جلا دو یا
زندہ اسے رکھ کر
مرنے کی سزا دے دو
خداۓ مجازی ہو
جو بوجھ بھی لادو گے
وہ بار ہی ڈھونا ہے
عورت تو کھلونا ہے
سنتے ہیں کہ آدم کی
تکمیل اسی سے تھی
کہتے ہیں کہ پسلی سے
تخلیق اسی کی تھی
یہ سر سے نہیں آئی
کہ تاج ہی بن بیٹھے
پیروں سے نہیں اٹھی
کہ جوتا ہی بنا لو تم
پسلی میں چھپے دل کی
متلاشی یہ رہتی ہے
قلقاری ہو، آنگن ہو
راضی برضا ہے یہ
سود و زیاں کے ہر
احساس سے عاری ہے
کیا پایا؟
کیا کھونا ہے؟
عورت تو کھلونا ہے
آدم کے گناہ پتھر
تہہ آب جو رہتے ہیں
سب جرم ہیں حوا کے
پھولوں کی طرح ہلکے
سطح آب پہ تیریں گے
کچھ فرق نہیں پڑتا
کہ بوجھ یہ عِصیاں کا
لغزش کے سبب ہے
یا جبر و زیادتی ہے
انصاف ملے گا کب؟
فریاد کا فائدہ کیا
دنیا یہ جانتی ہے
انجام جو ہونا ہے
عورت تو کھلونا ہے
دہلیز یہ صدیوں کی
کب اس نے پھلانگی ہے
ہے آج بھی غاروں میں
اس کا جو فسانہ ہے
آج بھی سوچو تو
یہ صرف جسم ہے جو
بکتا ہے، بکھرتا ہے
مفتوحِ شہر ہے جو
ہر بار اجڑتا ہے
یہ عارضی خیمہ ہے
ہر صبح اکھڑتا ہے
نقش ہے فانی سا
بنتا ہے، بگڑتا ہے
دیکھو صدف ہم کو
صدیوں کے فسانے کو
لمحوں میں سمونا ہے
بس کہتے ہیں ہم اتنا
عورت تو کھلونا ہے
صدف مرزا
No comments:
Post a Comment