میں نے کوشش بھی نہیں کی اور میں حیران تھا
ایک مدت سے محبت تجھ سے میں انجان تھا
صرف آنسو تھے میری آنکھوں کے دسترخوان پر
اے شبِ فرقت! تیرا میں جن دنوں مہمان تھا
اس کہانی میں میرا کردار ایک وحشی کا تھا
جاتے جاتے کہہ نہ پایا اپنے دل کی بات میں
وہ بھی کچھ مجبور تھا، میں بھی بڑا نادان تھا
سوکھے پتوں کی طرح رشتے جہاں بکھرے ملیں
اس کو گھر کہتا کیوں، وہ گھر نہیں ویران تھا
اس لیے چھوڑا ہے میں نے کاروبارِ عشق کو
فائدہ کچھ بھی نا تھا اپنا، بہت نقصان تھا
لے رہا ہوں اب اسی دنیا میں دوزخ کے مزے
جب تلک وہ پاس تھا، تب تک میرا ایمان تھا
ہجر کی یہ رات ہے اے دل، دکھا کچھ معجزے
وصل کی وہ رات تھی دل میں عجب طوفان تھا
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment