Friday, 21 August 2020

ایک مدت سے محبت تجھ سے میں انجان تھا

میں نے کوشش بھی نہیں کی اور میں حیران تھا 
ایک مدت سے محبت تجھ سے میں انجان تھا 
صرف آنسو تھے میری آنکھوں کے دسترخوان پر 
اے شبِ فرقت! تیرا میں جن دنوں مہمان تھا
اس کہانی میں میرا کردار ایک وحشی کا تھا 
پھر بھی مجھ کو لوگ کہتے ہیں کہ میں انسان تھا
جاتے جاتے کہہ نہ پایا اپنے دل کی بات میں
 وہ بھی کچھ مجبور تھا، میں بھی بڑا نادان تھا
سوکھے پتوں کی طرح رشتے جہاں بکھرے ملیں
اس کو گھر کہتا کیوں، وہ گھر نہیں ویران تھا  
اس لیے چھوڑا ہے میں نے کاروبارِ عشق کو 
فائدہ کچھ بھی نا تھا اپنا، بہت نقصان تھا
لے رہا ہوں اب اسی دنیا میں دوزخ کے مزے
جب تلک وہ پاس تھا، تب تک میرا ایمان تھا 
ہجر کی یہ رات ہے اے دل، دکھا کچھ معجزے
وصل کی وہ رات تھی دل میں عجب طوفان تھا


دل سکندر پوری

No comments:

Post a Comment