نظم
کبھی ایسا بھی ہوتا
نہیں ملتی خوشی سے سر خوشی کوئی
مسرت بن کے مینہ برسے، زمیں میں جذب ہو جائے
اٹھے مہکار مٹی سے نہ حدت میں کمی آۓ
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پل کوئی
الم کا آئے، اور آ کر ہمیں سرشار کر جاۓ
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے اداسی بے سبب آۓ
فضاۓ دل اچانک ہی کُہر آلود ہو جاۓ
سبب کچھ بھی نہیں ہوتا مگر رونے کو جی چاہے
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے بلا وجہ خوشی دل میں
نسیمِ صبح گاہی سی اچانک چلنے لگتی ہے
نواحِ جاں معطر ہو، فضا گلریز ہو جاۓ
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہنگامے نہیں بھاتے طبیعت کو
اکیلا پن بہت مرغوب ہوتا ہے
زمینِ دل پہ تنہائی لگے جیسے
کوئی بادل سروں پہ دھوپ میں سایہ ہے کراۓ
کبھی اچھا بہت لگتا ہے ہم کو سوچتے رہنا
تصور کا جہاں آباد کرنا، محو ہو جانا
ذہن میں خلق کرنا کوئی پیکر، گفتگو کرنا
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دل سوچے
نہیں سوچیں، نہیں، کچھ بھی نہیں سوچیں
بنا کر کشتیاں کاغذ کی چھوڑیں اور پلٹ آئیں
کسی منظر پہ نظروں کو جماۓ بے سبب گھوریں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دل چاہے
ملیں احباب سے
اعزاء سے، اپنے رشتے داروں سے
بلائیں اپنے گھر ان کو کبھی ہم ان کے گھر جائیں
بہانہ ڈھونڈ کر تقریب کوئی منعقد کر لیں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم چاہیں
تعلق توڑ لیں سب سے، رہیں خود اپنے گھر تنہا
سبھی سے ملنا جلنا، فون، خط موقوف کر ڈالیں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کتابیں، شاعری، نغمے
سوالوں کی رِدا اوڑھے کشش اپنی گنوا بیٹھیں
سوال ان میں سے اک یہ بھی کہ ان سے فائدہ کیا ہے؟
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم ان میں پنہ ڈھونڈیں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دل میں آرزو جاگے
بنیں محفل کی رونق، بزم میں مرکز نگاہوں کا
نمایاں خود کو رکھیں اور رتبے کا علم اونچا
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے، ذہن میں بات یہ آۓ
کہ خود کو بھیڑ میں شامل کریں، چہرہ گنوا ڈالیں
نمود و نام کے جذبے کی گردِ خام کو جھاڑیں
بھلا دیں خود ہی اپنے آپ کو، بے نام ہو جائیں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے، للک دل میں یہ پیدا ہو
کسی ٹھیلے پہ جا کے گول گپ، چاٹ ہم کھائیں
بھلا کر حیثیت اپنی کسی ریڑھی پہ جا بیٹھیں
کہیں پھر ریڑھی والے سے 'ذرا چاۓ بنا دینا
'کہ میٹھا ہلکا ہی رکھنا مگر پتّی بڑھا دینا
وہ چسکی چاۓ کی لیتے ہوۓ موجود لوگوں کی
(کہ جن میں سیدھے سادے مزدور پیشہ، رکشے والے ہیں)
بڑے ہی غور سے پھر باتوں کو ہے سننا
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دل چاہے
کھڑے ہو جائیں جا کر پھر اسی رستے پہ جس پر ہم
کبھی سکول جاتی لڑکیوں کو دیکھا کرتے تھے
مگر، افسوس کا پہلو ہے یہ کہ اب
وہ ساری شوخ، چنچل، پھول آسا لڑکیاں جن پر
نِگہ پڑتے ہی بجلی سی نظر میں کوند جاتی تھی
کہ دل اس کیفیت سے اپنا کچھ ایسے دھڑکتا تھا
کہ جیسے جوش جذبے سے کہیں باہر نہ آ جاۓ
مگر وہ شوخ، چنچل، حسن پیکر لڑکیاں کل کی
نظر آنے لگی ہیں سب ہمیں اب بچیاں اپنی
کہ ان کو دیکھ کر پدری شفقت عود آتی ہے
جاوید ندیم
No comments:
Post a Comment