Friday, 21 August 2020

کاغذ کی ناؤ کیا ہوئی دریا کدھر گیا

کاغذ کی ناؤ کیا ہوئی، دریا کدھر گیا
بچپن کو جو ملا تھا وہ لمحہ لمحہ کدھر گیا
معدوم سب ہوئیں وہ تجسس کی بجلیاں
حیرت میں ڈال دے وہ تماشہ کدھر گیا
پھر یوں ہوا کہ لوگ مشینوں میں ڈھل گئے
وہ دوست لب پہ لے کے دلاسہ کدھر گیا
یہ کیا کہ مل گئے تو اشارہ کیا چلے
بانہوں میں بھینچنے کا طریقہ کدھر گیا
کیا دشتِ جاں کی سوختہ حالی کہیں اسے
چاہت میں چاند چھونے کا جذبہ کدھر گیا
تاریکیاں ہیں ساتھ میرے، اور سفر مدام
کل تک تھا ہم قدم جو فرشتہ کدھر گیا؟
جو رہنما تھے میرے، کہاں ہیں وہ نقشِ پا
منزل پہ چھوڑتا تھا جو رستہ کدھر گیا
فائل کے میری سارے ہی اوراق گم ہوئے
رکھا تھا کاٹ کر جو تراشہ کدھر گیا

جاوید ندیم

No comments:

Post a Comment